نیویارک:125 سالہ قدیم میوزیم میں پہلی باراذان کی گونج

امپاوورڈ مسلم وومن آف نیویارک  نے بین المذاہب ہم آہنگی کے  فروغ کے لیے ہیکسچر میوزیم آف آرٹ میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا۔ اس میوزیم کی  ایک سو پچیس سالہ  تاریخ  میں  پہلی بار آذان دی گئی۔ تقریب کا  احوال سے رپورٹ میں
امپاوورڈ مسلم وومن آف نیویارک اور ہیکسچر میوزیم آف آرٹ  کے اشتراک سے منعقدہ  افطار ڈنر کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔

تیسرے سالانہ انٹر فیتھ کمیونٹی رمضان ڈنر میں مختلف مذاہب سے  تعلق رکھنےو الے افراد  کی کثیر تعداد شریک  ہوئی ۔ امپاوورڈ مسلم وومن آف نیویارک  کی پریذیڈنٹ شازیہ  جبین نے شرکاء  کے سامنے اپنی  تنظیم کے قیام کے اغراض و  مقاصد اور گزشتہ کارکردگی کا خلاصہ  پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں خواتین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

میوزیم کے ہال کو تقریب  کی مناسبت سے  بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔ اس موقع پر  شازیہ  جبین نے وائس آف ساوتھ ایشیا سے گفتگو میں کہا کہ مسلمان اور دیگر مذاہب کے درمیان  بہتر تعلقات سے نفرت انگیز جرائم کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انٹر فیتھ کمیونٹی رمضان  ڈ نر  کے شرکاء کو مسلمانوں کی طرف سے صفاء عامر  جبکہ یہودی کمیونٹی سے ایو کریف نے  اپنی اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق رمضان المبارک اور روزے کی اہمیت بتائی ۔

تقریب میں یکسچر میوزیم آف آرٹ کی سی ای او اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیدر آرنیٹ اور  کمیونٹی انگیجمنٹ کی منیجر لیز اسعیدی  نے موزیم کا تاریخی پس منظر بیان کیا۔ اس موقع پر انھوں نے افطار ڈنر کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا۔

انٹر فیتھ کمیونٹی رمضان ڈنر میں نیویارک  کے مختلف حلقوں سے منتخب ارکانِ اسمبلی اور آفیشل بھی شریک تھے ۔ امریکی آفیشل کا کہنا تھا کہ معاشرے میں مستقل امن،نفرت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ اسی طرح مل جل کر رہا  جائے ۔ 

افطار کا وقت ہوا تو میوزیم کی 125 سالہ تاریخ میں پہلی  بار اذان کی آواز گونجی۔

آذان کے بعد سب نے مل کر افطار کیا اور بعدازں  با جماعت مغرب کی نماز بھی ادا کی گئی۔۔تقریب کے اختتام پر امپاورڈ  مسلم  وومن  آف نیویارک  کے والنٹئیرز کی  خدمات کی ستائش اور حوصلہ افزائی  کے لیے  انھیں تعریفی سرٹیفکیٹ  سے نوازا گیا۔

This post was originally published on VOSA.