
ورجینیا(ویب ڈیسک) امریکی ریاست ورجینیا کے رہائشی رک طارق رحیم کو ٹیکس چوری اور وائر فراڈ کے الزامات میں 78 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، رحیم نے انٹرنل ریونیو سروس (IRS) کو تقریباً 4.4 ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا اور متعدد سرمایہ کاروں کو بھی دھوکہ دیا۔ عدالت کے مطابق، 2015 سے 2021 کے دوران رحیم نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں سے ٹیکس کی رقم کاٹی لیکن آئی آر ایس کو ادائیگی نہیں کی اور نہ ہی مطلوبہ ٹیکس ریٹرن فائل کیے۔ ساتھ ہی 2010 اور 2012 کے انکم ٹیکس ریٹرنز میں بھی اس نے مکمل ادائیگی سے اجتناب کیا۔ جب آئی آر ایس نے واجبات کی وصولی کی کوشش کی، تو اس نے جھوٹے مالی ریکارڈ جمع کروائے اور اپنی قیمتی جائیدادیں، بشمول ہیلی کاپٹر، بینٹلی، لیمبورگینی، اور گریٹ فالس میں واقع جائیداد، چھپانے کی کوشش کی۔ رحیم نے اپنے کاروباری اکاؤنٹس کو ذاتی اخراجات کے لیے استعمال کیا، جس میں 889,000 ڈالر کی رہن ادائیگیاں اور 669,000 ڈالر کی گاڑیوں کی خریداری اور لیز شامل تھیں۔ساتھ ہی اس نے 1.1 ملین ڈالر نقد میں نکال کر بینک رپورٹنگ سے بچنے کی کوشش بھی کی۔ رحیم نے آن لائن سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کے لیے جعلی ٹریڈنگ سافٹ ویئر اور خودکار ٹریڈنگ بوٹس فروخت کیے۔ وہ ٹک ٹوک، یوٹیوب اور ڈسکورڈ پر خود کو کامیاب تاجر ظاہر کرکے سرمایہ کاروں کو راغب کرتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ وہ اسٹاک مارکیٹ میں روزانہ لاکھوں ڈالر کماتا ہے۔ لیکن تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ فروری 2021 سے دسمبر 2022 کے دوران اسے 5 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا، لیکن وہ مسلسل منافع کے جھوٹے دعوے کرتا رہا۔ تحقیقات کے مطابق، رحیم نے 20 سے زائد جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا کر اپنی اسکیم کو مزید مضبوط کیا، تاکہ سرمایہ کاروں کو اس کی کامیابی پر یقین دلایا جا سکے۔ اس فراڈ کے ذریعے اس نے 1.3 ملین ڈالر کمائے۔ عدالت نے رحیم کو 1.3 ملین ڈالر کی ضبطگی اور آئی آر ایس سمیت تمام متاثرین کو مالی ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ مقدمہ آئی آر ایس کریمنل انویسٹی گیشن اور ایف بی آئی کی مشترکہ تفتیش کے نتیجے میں سامنے آیا، جبکہ محکمہ انصاف کے وکلاء نے استغاثہ کی نمائندگی کی۔ فیصلے کے بعد، محکمہ انصاف نے بیان دیا کہ اس طرح کی مالی جرائم کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ ٹیکس دہندگان اور سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
This post was originally published on VOSA.