ایرو اسپیس اسٹارٹ اپ کے سابق عہدیداروں پر فرد جرم عائد

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی ریاست واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایرو اسپیس اسٹارٹ اپ کمپنی تھییا گروپ کے پانچ سابق عہدیداروں پر سرمایہ کاروں اور قرض دہندگان سے 250 ملین ڈالر کے فراڈ اور ٹیکس چوری کے الزامات میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق، سابق سی ای او ایرلینڈ اولسن، ایگزیکٹو نائب صدر جان گیلاگر، سی ایف او اسٹیفن بشیر، سی ٹی او جوزف فارگنولی، اور اسٹریٹجک انویسٹمنٹ کے سربراہ جمیل سواتی پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی سرکاری معاہدوں، غلط مالیاتی بیانات اور 6 ارب ڈالر کے جعلی اسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے دھوکہ دہی کی ہے۔ اولسن پر 3.9 ملین ڈالر کے ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کا بھی الزام ہے، جس کے تحت انہوں نے اپنی آمدنی کو ایک نام نہاد کمپنی کے ذریعے چھپایا اور اسے ذاتی اخراجات پر خرچ کیا۔ استغاثہ کے مطابق، کمپنی نے 2022 میں 112 سیٹلائٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جس کے لیے 10 سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار تھی۔ لیکن 2015 سے 2021 تک کمپنی کسی بڑی سرمایہ کاری کے حصول میں ناکام رہی اور صرف 250 ملین ڈالر کے قرض اور سرمایہ کاری حاصل کر سکی۔ تمام ملزمان پر وائر اور میل فراڈ کے علاوہ سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ اولسن پر چار مزید ٹیکس چوری کے الزامات بھی ہیں۔ جرم ثابت ہونے پر ہر ایک کو 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ اولسن کو ٹیکس چوری کے الزامات پر اضافی 5 سال قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ کیس انٹرنل ریونیو سروس (IRS) کریمنل انویسٹی گیشن اور فیڈرل ڈپازٹ انشورنس کارپوریشن (FDIC) انسپکٹر جنرل کے دفتر کی تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ تمام ملزمان کو عدالت میں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

This post was originally published on VOSA.