کراچی کے تجارتی مرکز میں قیامت، گل پلازہ جل کر راکھ،15 افراد جاں بحق

پاکستان کے شہر کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آگ میں جھلس کر اب تک 15 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں، جبکہ 74 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں تہہ خانے سمیت مختلف حصوں میں کام کر رہی ہیں۔

گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آگ نے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ 36 گھنٹوں تک جاری رہنے والی آتش زدگی پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم ملبہ ہٹانے اور سرچ آپریشن کا عمل جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کا دورہ کرتے ہوئے تصدیق کی کہ 15 لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور جاں بحق افراد کے ورثا کو ایک، ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت بیسمنٹ، گراؤنڈ اور تین منزلوں پر مشتمل تھی جہاں ایک ہزار سے زائد دکانیں موجود تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، تاہم حتمی وجوہات کولنگ کے بعد سامنے آئیں گی۔ وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ متاثرہ تاجروں کے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کی حالت انتہائی مخدوش ہونے کے باعث امدادی کارروائیاں احتیاط سے کی جا رہی ہیں۔ پولیس چیف نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، تاہم اگر کسی کی غفلت ثابت ہوئی تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق لاپتہ افراد کے موبائل نمبرز اور لوکیشنز کی جانچ جاری ہے جبکہ سی پی ایل سی اور ایدھی فاؤنڈیشن نے بھی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہیلپ ڈیسک قائم کر دیے ہیں۔سانحے کے دوران ایک فائر فائٹر فرقان علی اپنی جان قربان کر گیا، جسے شہریوں نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کر کے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ گورنر سندھ اور میئر کراچی نے بھی متاثرہ مقام کا دورہ کر کے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن مکمل ہونے تک حتمی اعداد و شمار سامنے نہیں آ سکیں گے۔

This post was originally published on VOSA.