
امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اتار چڑھاؤ نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں فی گیلن قیمت چار ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس میں خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین زیادہ تر ان کے کنٹرول میں نہیں ہوتا، بلکہ خام تیل کی عالمی قیمت، ریفائنری لاگت اور ٹیکسز اس میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکی توانائی اداروں کے مطابق تقریباً پچاس فیصد قیمت خام تیل کی ہوتی ہے، جبکہ باقی حصہ ریفائننگ، ٹرانسپورٹ اور ٹیکسز پر مشتمل ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ریاستوں اور شہروں میں قیمتوں میں فرق کی بڑی وجہ ٹیکسز، ریفائنری سے فاصلے اور مقامی مسابقت ہے۔ بعض مقامات پر زیادہ ٹیکسز کے باعث پیٹرول مہنگا ہوتا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں نسبتاً کم قیمت دیکھنے میں آتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود پمپ مالکان کو زیادہ فائدہ نہیں ہوتا، کیونکہ ان کے منافع کا مارجن محدود رہتا ہے اور بڑھتی لاگت ان کی آمدنی کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل منافع زیادہ تر ان کمپنیوں کو ہوتا ہے جو خام تیل نکالتی اور اسے ریفائن کرتی ہیں، جبکہ عام صارفین اور چھوٹے کاروبار اس بوجھ کا شکار ہوتے ہیں۔
This post was originally published on VOSA.