
کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ دو غیر ملکی طلبہ کے خلاف امیگریشن قوانین کے خلاف ورزی پر کارروائی کی گئی۔ ان میں سے ایک طالبہ نے خود کو سیلف ڈی پورٹ کیا جبکہ دوسری کو ویزا ختم ہونے کے باوجود امریکہ میں قیام پر گرفتار کر لیا گیا۔محکمہ داخلہ سلامتی کے مطابق تعلق رکھنے والی اربن پلاننگ کی پی ایچ ڈی طالبہ رنجنی سرینواسن کا اسٹوڈنٹ ویزا رواں ماہ حماس کی مبینہ حمایت کے الزام میں منسوخ کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرینواسن نے 11 مارچ کو کینیڈا روانگی سے قبل خود کو سیلف ڈی پورٹ کرتے ہوئے کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی موبائل ایپ کا استعمال کیا۔ ڈی ایچ ایس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں سرینواسن کو لاگارڈیا ایئرپورٹ پر سفر کے وقت دکھایا گیا ہے۔دوسری جانب فلسطین سے تعلق رکھنے والی طالبہ لقاعہ کورڈیا امریکہ میں اسٹوڈنٹ ویزا پر مقیم تھیں،جنہیں ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر ملک میں قیام پر گرفتار کرلیا گیا۔ ڈی ایچ ایس کے مطابق کورڈیا کا ویزا جنوری 2022 میں ختم ہو چکا تھا۔ اگرچہ کولمبیا یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ ان کی طالبہ نہیں تھیں، تاہم ڈی ایچ ایس کے مطابق انہیں گزشتہ سال اپریل میں نیو یارک پولیس نے یونیورسٹی کے قریب فلسطینی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں گرفتار کیا تھا۔ڈی ایچ ایس سیکریٹری کرسٹی نوم نے اپنے بیان میں کہا کہ جب کوئی شخص دہشت گردی اور تشدد کی حمایت کرتا ہے تو امریکہ میں قیام کا حق کھو دیتا ہے۔ خوشی ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی کی ایک ہمدرد نے ایپ کے ذریعے خود کو ملک بدر کیا۔ کولمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر کترینہ آرمسٹرانگ نے کہا کہ جمعرات کی رات ڈی ایچ ایس نے یونیورسٹی کی دو رہائشی عمارتوں میں سرچ وارنٹ کے تحت کارروائی کی، لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔اسی دوران، کولمبیا کے فارغ التحصیل اور فلسطین کے حامی کارکن محمود خلیل کو آئی سی ای نے حراست میں لے لیا، جس پر ان کے وکلا نے حکومت کے خلاف رہائی کے لیے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ خلیل کے وکلا کا کہنا ہے کہ انہیں نیویارک سے لوئزیانا تک ہتھکڑی اور زنجیروں میں منتقل کیا گیا اور دوران حراست غیر انسانی سلوک کا سامنا رہا۔ خلیل کی گرفتاری پر نیویارک میں مظاہرے ہوئے، جہاں طلبہ نے گرفتاریوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اس تناظر میں، ٹرمپ انتظامیہ نے کولمبیا یونیورسٹی کو وفاقی فنڈنگ کی بحالی کے لیے سخت شرائط پیش کی ہیں، جن میں ماسک پر پابندی اوریہود دشمنی کی باقاعدہ تعریف شامل ہے۔ یونیورسٹی کو ایک ہفتے میں عملدرآمد کا حکم دیا گیا ہے۔
This post was originally published on VOSA.